
Copyright: ALI
زمیں سے آئ یہ سنہری صدا کیا ماجرا ہے خورشید ، اب ڈوب تو جا
کائنات ہے مجبور انتظارِ غروب کے لےء مچلتا ہے قمر زینتِ سخن کے لےء
مشکل میں پڑی ہے کہین شبنم کی کلی نسیم ہے اِدھر اُدھر بھٹکتی ہوئ
افسوس میں انجم ،کہ افسانہ فضول گیا سمجھتا کیوں نھیں ماتم یہ عرش کا
شب بے تاب ہے ، کلیجا رکھتا نھیں خاموشی، یہ تاریکی، مشکلیں رات کی
تھا تو ترا نصیب غرق ہونا انتشارِ آفتابی کرن کیوں کر یھاں وھاں ؟
گونجی آواز اکااک شمس کی شفق کے نکاح پہ یہ کیوں آزردگی ؟
رکھسار دلہن کی لالی کو پرکھ وقت کی نزاکت کو ذرا تو سمجھ
عشرت میں مسرت میں پرندہ کو دیکھ دیکھ فلک میں، مہندی کے گلفام کو دیکھ
قدیم ہوں، قادم، دستور کائنات کا مگر ہستی بجھا نہیں سکتی زندگانی کا
تصور میں کیا ہے رکھا، شعاعوں کو بکھرنے تو دے
بنا آشیا نہ ریت کا، گردوںِ فلک میں